کیا خبر، کیا پتا ہے لوگوں کا
جانے کیا مدعا ہے لوگوں کا
کون ہے دوزخی، بہشتی کون
یہ بھی اک مسئلہ ہے لوگوں کا
اپنے اپنے ہیں ڈھنگ عبادت کے
اپنا اپنا خدا ہے لوگوں کا
جھانکتے ہیں حریمِ خستہ میں
جانے کیا کھو گیا ہے لوگوں کا
عیب لوگوں میں ڈھونڈنے کے سوا
مشغلہ اور کیا ہے لوگوں کا
ہم ہی برباد ہو گئے آخر
سوچ تو کیا گیا ہے لوگوں کا
ان کی باتوں کی مت کرو پرواہ
بند کب منہ رہا ہے لوگوں کا
کوئی ایسا بھلا نہیں ملتا
جو بھلا چاہتا ہے لوگوں کا
جو کہ اس دور میں بھی زندہ ہیں
باخدا حوصلہ ہے لوگوں کا
اس قدر وارثی سے برہم کیوں
کیا بگاڑا ہوا ہے لوگوں کا
بشارت وارثی
No comments:
Post a Comment