صفحات

Sunday, 25 April 2021

چپ کیوں ہو

 چپ کیوں ہو؟


ہوا

تم جانتی ہو سب

کہ میں نے رات کے پچھلے پہر

چپکے سے ساری داستاں تم کو سنائی تھی

تمہیں ‌تو یاد ہی ہو گا

تبھی

جب اشک میری بات کے رستے میں حائل تھے

تبھی

جب لفظ میرے درد کی شدت سے گھائل تھے

میری سوچیں

جب اس کی چاپ کے پیچھے گئیں تھیں تو

ہوا تم نے ہی میرا بھیگتا پلّو سُکھایا تھا

ہوا تم سن رہی تھی نا؟ کہ جب اس نے کہا تھا

منتظر رہنا میں آؤں گا“‌

ہوا تم تو گواہ ہی ہو کہ تب سے اب تلک

ان راستوں‌ سے

میری آنکھوں کے دِیے بُجھنے نہیں پائے

ہوا تم تو اسی کے راستوں سے ہو کے آئی ہو

ہوا

وہ آ رہا تھا نا؟

ہوا

بولو نا چُپ کیوں ہو؟


عائشہ غازی

No comments:

Post a Comment