کہاں ہم جیسے لوگوں کو زمانہ نام دیتا ہے
مگر اک نشۂ حیرت کہ جو الہام دیتا ہے
محبت امرِ لازم تھا اور ہم مامور تھے اس پر
زمانہ تہمتیں دھرتا ہمیں الزام دیتا ہے
عجب حالت سی ہے ہر ایک عہدِ نارسائی میں
کہ ہر کوئی سہارا گام یا دو گام دیتا ہے
ازل کی پیاس لے کر ہم رُخِ ساقی کو تکتے کیا
کِسے دستِ وفا دیتا کِسے وہ جام دیتا ہے
وہ جو عورت کے حق کی بات کرتے ہیں انہیں پوچھو
کوئی مذہب وہ حق دیتا ہے جو اسلام دیتا ہے؟
ہماری کامیابی میں بھی تھا اک راز یہ انجم
سہارا سا بہت اب تک دلِ ناکام دیتا ہے
عظیم انجم ہانبھی
No comments:
Post a Comment