صفحات

Thursday, 1 April 2021

کہاں ہم جیسے لوگوں کو زمانہ نام دیتا ہے

 کہاں ہم جیسے لوگوں کو زمانہ نام دیتا ہے

مگر اک نشۂ حیرت کہ جو الہام دیتا ہے

محبت امرِ لازم تھا اور ہم مامور تھے اس پر

زمانہ تہمتیں دھرتا ہمیں الزام دیتا ہے

عجب حالت سی ہے ہر ایک عہدِ نارسائی میں

کہ ہر کوئی سہارا گام یا دو گام دیتا ہے

ازل کی پیاس لے کر ہم رُخِ ساقی کو تکتے کیا

کِسے دستِ وفا دیتا کِسے وہ جام دیتا ہے

وہ جو عورت کے حق کی بات کرتے ہیں انہیں پوچھو

کوئی مذہب وہ حق دیتا ہے جو اسلام دیتا ہے؟

ہماری کامیابی میں بھی تھا اک راز یہ انجم

سہارا سا بہت اب تک دلِ ناکام دیتا ہے


عظیم انجم ہانبھی

No comments:

Post a Comment