صفحات

Thursday, 1 April 2021

اشک آنکھوں میں نہ تھے دید کا سودا تو نہ تھا

 اشک آنکھوں میں نہ تھے دید کا سودا تو نہ تھا

عشق سے پہلے کسی طور تقاضا تو نہ تھا

اپنے ہی سائے سے ڈرتا ہوں الٰہی توبہ

اس طرح سے کبھی اندیشۂ فردا تو نہ تھا

ان سے پہلے بھی چمن میں تھی سحر کی رونق

باد صرصر کی جوانی کا نظارا تو نہ تھا

پہلے بھی چاند ستارے تھے فلک پر موجود

گیسوئے شب کو بہاروں نے سنوارا تو نہ تھا

جانے کیوں آنکھوں میں آتے ہیں سمٹ کر آنسو

سوچتا ہوں کہیں گردش میں ستارہ تو نہ تھا

یاد آتے ہی بڑھا ان سے ملاقات کا شوق

اٹھ گئے خود ہی قدم دل میں ارادہ تو نہ تھا

میں نے مے خانے کے ہر جام میں گرمی پائی

جانے کیا چیز تھی پیمانوں میں بادہ تو نہ تھا

اب تو ہر سانس پہ ہوتا ہے گمان دھڑکن

درد اٹھتا ہی رہا ہے مگر ایسا تو نہ تھا

آنکھ جھپکی تھی خضر نبض رکی تھی اک دم

کچھ بھی کہہ لیجئے وہ دوست کا جلوا تو نہ تھا


خضر برنی

No comments:

Post a Comment