کسی کے دل کی دنیا ہوئی برباد کیونکر
کوئی گم گشتہ قصہ سنا دو اے ستمگر
تبسم راکھ صورت ہوا میں اڑ گیا ہے
رکو کہ لوٹ جائے گا طوفان جانبِ گھر
چراغِ آرزو کی بڑی مدھم سی لو تھی
مزار حسرتوں پہ چڑھا دو غم کی چادر
کئی بے نام رستے کئی گمنام چہرے
تلاش حق میں چلتے چلے جاتے ہیں در در
عیاں ہیں نیتیں بھی تماشا چل رہا ہے
بہت روئے سبھی جب کٹا شبیرؑ کا سر
اصول بندگی ہے بس اک معبودِ بر حق
سو رکھ دیئے صنم ہی خدا کے گھر میں لا کر
جہل پرور زمانہ سہل طبیعت نفس ہیں
ہے گہرا خواب غفلت اور پانی سر سے اوپر
فضہ بتول
No comments:
Post a Comment