صفحات

Thursday, 1 April 2021

کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے

 کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے

پہنچ گئی ہے کہاں جانے بات چلتے ہوئے

سفر سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا

سر سحر چلی آئی ہے رات چلتے ہوئے

سنا ہے تم بھی اسی دشت غم سے گزرے ہو

سو ہم نے کی ہے بڑی احتیاط چلتے ہوئے

ہم اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کو بحال کریں

کہیں رکھے تو سہی کائنات چلتے ہوئے

ہوا رُکی تو عجب حسن تھا مگر شہباز

گِرا گئی ہے کئی سوکھے پات چلتے ہوئے


شہباز خواجہ

No comments:

Post a Comment