صفحات

Thursday, 1 April 2021

سمندر کے کنارے چلتے ہیں، کنارے ڈھونڈتے ہیں

 سمندر کے کنارے چلتے ہیں، کنارے ڈھونڈتے ہیں

پاگل ہیں، دیوانے ہیں، تیری یادوں کے سہارے ڈھونڈتے ہیں

دُور نکل جاتے ہیں ہم تخیّل ہی تخیّل میں

کچھ پل کی خوشیاں، اس دوارے ڈھونڈتے ہیں

تم کو مجھ سے زیادہ اس سمندر سے محبت تھی

سو ہم اس کے انداز وہ نرالے ڈھونڈتے ہیں

کیا پایا ہے کیا کھویا ہے ہم نے اس عشق میں

پاگل ہیں، عشق میں خسارے ڈھونڈتے ہیں

سچ پوچھو تو ٹُوٹا تھا یہ دل سمندر کے کنارے

ہم آتے ہیں، اپنے دل کے پارے ڈھونڈتے ہیں

سوچا ہے اب جاتے ہیں وہاں جہاں غم نہیں ہوتے

مسافر آتے ہیں جہاں سب اپنے پیارے ڈھونڈتے ہیں


آفتاب مسافر

No comments:

Post a Comment