تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا
خوش ہوں کہ میرا عشق تماشہ نہیں بنا
کچھ ایسے اس نے مٹی ہماری خراب کی
پھر اس کے بعد کچھ بھی ہمارا نہیں بنا
ذرے تمام دیکھے گئے تھے ہواؤں میں
اس دن کے بعد کوئی ستارہ نہیں بنا
اک ساتھ اک طویل مسافت کے باوجود
افسوس، اعتبار کا رشتہ نہیں بنا
یاروں نے حُسنِ یار پہ دیوان لکھ دئیے
ہم سے تو ایک ڈھنگ کا مصرع نہیں بنا
اس بات کا ملال مجھے بھی ہے کُوزہ گر
تُو جیسا چاہتا تھا بنانا،۔ نہیں بنا
اس کی ہنسی کے رنگ چُرائے گئے بہت
لیکن کسی کے گال میں گڈھا نہیں بنا
لہروں کے اضطراب سے لگتا تو ہے یہی
ساحل پہ آج کوئی گھروندہ نہیں بنا
لہجے میں اس کے حکم تھا اصرار کی جگہ
اس بار مجھ سے کوئی بہانہ نہیں بنا
انسان بن کے آیا تھا میرے قریب وہ
سو میں بھی اب کی بار فرشتہ نہیں بنا
رکھا ہوا ہے اس نے نشانے پہ سب کا دل
وہ دل ابھی کسی کا نشانہ نہیں بنا
اک عمر اس نے مجھ میں گزاری مگر طلب
وہ شخص میری ذات کا حصہ نہیں بنا
خورشید طلب
No comments:
Post a Comment