Thursday, 1 April 2021

تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا

 تیرا نہیں بنا تو کسی کا نہیں بنا

خوش ہوں کہ میرا عشق تماشہ نہیں بنا

کچھ ایسے اس نے مٹی ہماری خراب کی

پھر اس کے بعد کچھ بھی ہمارا نہیں بنا

ذرے تمام دیکھے گئے تھے ہواؤں میں

اس دن کے بعد کوئی ستارہ نہیں بنا

اک ساتھ اک طویل مسافت کے باوجود

افسوس، اعتبار کا رشتہ نہیں بنا

یاروں نے حُسنِ یار پہ دیوان لکھ دئیے

ہم سے تو ایک ڈھنگ کا مصرع نہیں بنا

اس بات کا ملال مجھے بھی ہے کُوزہ گر

تُو جیسا چاہتا تھا بنانا،۔ نہیں بنا

اس کی ہنسی کے رنگ چُرائے گئے بہت

لیکن کسی کے گال میں گڈھا نہیں بنا

لہروں کے اضطراب سے لگتا تو ہے یہی

ساحل پہ آج کوئی گھروندہ نہیں بنا

لہجے میں اس کے حکم تھا اصرار کی جگہ

اس بار مجھ سے کوئی بہانہ نہیں بنا

انسان بن کے آیا تھا میرے قریب وہ

سو میں بھی اب کی بار فرشتہ نہیں بنا

رکھا ہوا ہے اس نے نشانے پہ سب کا دل

وہ دل ابھی کسی کا نشانہ نہیں بنا

اک عمر اس نے مجھ میں گزاری مگر طلب

وہ شخص میری ذات کا حصہ نہیں بنا


خورشید طلب

No comments:

Post a Comment