Thursday, 1 April 2021

کسی جنگل میں جا کر قافلہ گم ہو گیا ہے

 کسی جنگل میں جا کر قافلہ گُم ہو گیا ہے

یہاں سے واپسی کا راستہ گم ہو گیا ہے

وہ جس رسی کو ہم نے تھامنا تھا کاٹ ڈالا

عقیدوں کے تصادم میں خُدا گم ہو گیا ہے

اسے ملنے کی خاطر جس سے تس سے مل رہے ہیں

جسے ملنا تھا اس کا ہی پتہ گم ہو گیا ہے

تمہاری کیا، کسی کی یاد اب آتی نہیں ہے

مجھے لگتا ہے میرا حافظہ گم ہو گیا ہے

بہت دن بعد کچھ سُننے کو جب راضی ہُوا وہ

لبوں تک آتے آتے مُدعا گم ہو گیا ہے

ہمیں آسائشیں حاصل ہیں پہلے سے زیادہ

مگر وہ لمحۂ راحت فزا گم ہو گیا ہے

طلب اک دوسرے سے مل رہے ہیں لوگ رسماً

دلوں کے بیچ جو تھا رابطہ، گم ہو گیا ہے


خورشید طلب

No comments:

Post a Comment