صفحات

Saturday, 3 April 2021

نہیں محفل میں ہنگامہ کروں گا

 نہیں محفل میں ہنگامہ کروں گا

جہاں بولو وہیں بیٹھا رہوں گا

سنا ہے موت ہی درمانِ غم ہے

مجھے لگتا نہیں میں بھی مروں گا

مجھے در چاہیے اور تجھ کو ساجد

کہاں میں در بہ در بھٹکا پھروں گا

میں خود سے تو نمٹ لوں اے خدایا

تمہارے واسطے کس سے لڑوں گا

مجھے ادراک ہے، کچا گھڑا ہوں

سو گھُلتا جاؤں گا، جتنا بھروں گا


بشارت وارثی

No comments:

Post a Comment