نہیں محفل میں ہنگامہ کروں گا
جہاں بولو وہیں بیٹھا رہوں گا
سنا ہے موت ہی درمانِ غم ہے
مجھے لگتا نہیں میں بھی مروں گا
مجھے در چاہیے اور تجھ کو ساجد
کہاں میں در بہ در بھٹکا پھروں گا
میں خود سے تو نمٹ لوں اے خدایا
تمہارے واسطے کس سے لڑوں گا
مجھے ادراک ہے، کچا گھڑا ہوں
سو گھُلتا جاؤں گا، جتنا بھروں گا
بشارت وارثی
No comments:
Post a Comment