صفحات

Saturday, 3 April 2021

ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے

 ہر راحتِ جاں لمحے سے اُفتاد کی ضِد ہے

بے داد زمانہ بھی کسی داد کی ضد ہے

ہر خیر کسی شر سے بقاء یاب ہوئی ہے

یہ حسنِ تعادل بھی تو اضداد کی ضد ہے

اب آنکھیں بھلا کس طرح تقسیم کرے ماں

دیواریں کھڑی کرنا تو اولاد کی ضد ہے

گِریہ نہیں معقول بیادِ کسِ رفتہ

لیکن یہ تماشا دلِ ناشاد کی ضد ہے

میں راستہ بھُولا ہوا پیادہ ہوں مجھے کیا

رہبر کو اگر جادۂ برباد کی ضد ہے

میں خود سے نبھانے کا روادار نہیں تھا

یہ پہلی محبت مِرے ہمزاد کی ضد ہے

ہیں فکر کے آثار خداؤں کی جبیں پر

اک ابد زیاں کار کو الحاد کی ضد ہے


اکرام اعظم

No comments:

Post a Comment