صفحات

Saturday, 3 April 2021

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

 مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ان آنکھوں کے لیے

جو سپنے چھِن جانے کے بعد

سُولی چڑھائی گئی ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

مقدس اجسام کے لیے

جو غربت سے شکست کھا کر

ذِلتوں کے ہاتھ بکتے ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ان خواہشوں کے نام

جو گناہ کے عفریت سے ڈر کر

کھِلنے سے پہلے کمہلا جاتی ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

جوانوں کے نام

جن کے ارادے اور ولولے 

خودکشی کر کے مر گئے ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

اس فریاد کی خاطر

جو ثبوت نہ ہونے کے باعث

قابلِ شنوائی نہیں رہی

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ایک صحافی کے لیے

جس نے ایک سچی خبر

شراب کی بوتل میں ڈبو دی

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ان زبانوں کے نام

جن کو مذہبی سوداگروں نے

خودکش حملے میں مار دیا 

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ان مزدوروں کے نام

جو دن بھر دھوپ میں جل کر

بے بسی خرید لاتے ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ان ہونٹوں پر

جن کی دہلیز پر الفاظ

سر پٹک کر مر جاتے ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

اس جج کے لیے

جس نے ضمانت کی قیمت لگا کر

قاتل کو رہائی کا حکم دیا

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

انتظار کے لمحوں کے لیے

جو گھر کی چوکھٹ پر بیٹھے بیٹھے

سُوکھ کر بکھر جاتے ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

دوستی کے لیے

جو فریب کے تحائف میں

سانس گھٹنے سے مر گئی ہے

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

بے ربط سی باتوں کے لیے

جو تیرے سامنے افسردہ ہیں

اور اپنی ٹوٹی ہوئی قلم پر


عابد عباس کاظمی

No comments:

Post a Comment