صفحات

Saturday, 3 April 2021

گھر کی رنجش سر بازار نکل آتی ہے

 گھر کی رنجش سرِ بازار نکل آتی ہے

بات ہی بات میں تلوار نکل آتی ہے

روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا

روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے

رات کے پنچھی ادھر ڈھونڈھنے آتے ہیں پناہ

دھوپ جب جھیل کے اس پار نکل آتی ہے

مصلحت کوشی سجا لیتی ہے سر پر دستار

حق پرستی طرف دار نکل آتی ہے

سُست رو ہوتے ہیں سب اپنے سفر میں پہلے

ٹھوکریں لگتی ہیں ، رفتار نکل آتی ہے

دیکھتے دیکھتے قدریں ہی بدل جاتی ہیں

کام کی چیز بھی بے کار نکل آتی ہے

کوئی موسم ہو کبھی بانجھ نہیں ہوتے خواب

شاخ کوئی ثمر آثار نکل آتی ہے

فیصلہ جاتا ہے ہر بار محبت کے خلاف

یہ اُبھاگن ہی خطا کار نکل آتی ہے

آگ بن جاتی ہے جنگل کی طلب مور کی پیاس

پیاس جب چھید کے منقار نکل آتی ہے


خورشید طلب

No comments:

Post a Comment