صفحات

Saturday, 3 April 2021

ایک تو بے بسی اضافی ہے

 ایک تو بے بسی اضافی ہے

اور پھر زندگی اضافی ہے

آنکھ میں آنسوؤں نے بَین کیا

لب پہ میرے ہنسی اضافی ہے

یہ خوشی، مسکراہٹیں، رونق

ان دنوں یہ سبھی اضافی ہے

یار یہ کیا کہ تیرے ہوتے ہوئے

مجھ میں تیری کمی اضافی ہے

درد اَجداد سے مِلا ہے کچھ

اور پھر شاعری اضافی ہے

بھُول بیٹھے تجھے صبا احباب

تُو انہیں واقعی اضافی ہے


صبا تابش

No comments:

Post a Comment