نہ ملا چاند، چلو کوئی ستارہ تو ملا
ایک بھٹکے ہوئے آہُو کو اشارہ تو ملا
شکر صد شکر کہ دیوار میسر ہے مجھے
سر پٹخنے کے لیے کوئی سہارا تو ملا
جو تماشا سر بازار ہوا، چھوڑ اُسے
دیکھنے والوں کو دلچسپ نظارہ تو ملا
میں نے جی بھر کے اُسے دیکھا نہیں میرے خدا
مجھ کو اک بار ذرا اُس سے دوبارہ تو ملا
نجم صدیقی
No comments:
Post a Comment