صفحات

Wednesday, 5 May 2021

سردی گرمی برکھا تینوں ایک ساتھ ہی بستے ہیں

 سردی گرمی برکھا تینوں ایک ساتھ ہی بستے ہیں

تیرے بدن میں وہ جادو ہے سارے موسم رہتے ہیں

تیرے میرے بیچ نہیں ہے خون کا رشتہ پھر بھی کیوں

تیری آنکھ کے سارے آنسو میری آنکھ سے بہتے ہیں

ایک زمانہ بِیتا تیرے پیار کے جنگل سے نکلے

یاد کے سانپ تو تنہائی میں آج بھی مجھ کو ڈستے ہیں

وعدہ کر کے بھول بھی جانا یہ تو تیری عادت ہے

میں ہی نہیں کہتا ہوں ایسا لوگ بھی اکثر کہتے ہیں


پریم بھنڈاری

No comments:

Post a Comment