صفحات

Saturday, 1 May 2021

عجیب لوگ ہیں بارش ہوا سے ڈرتے ہیں

 عجیب لوگ ہیں بارش ہوا سے ڈرتے ہیں

خدا سے ڈرتے نہیں ہیں وبا سے ڈرتے ہیں

بہار آئی ہوئی ہے سنہری دھوپ بھی ہے

گلاب کھلتے ہیں لیکن صبا سے ڈرتے ہیں

طویل چپ ہے مگر شور اس قدر ہے کہ اب

کوئی بلائے تو اس کی صدا سے ڈرتے ہیں

اسی لیے تو نصابوں میں اس کا ذکر نہیں

جو اقتدار میں ہیں کربلا سے ڈرتے ہیں

دیا جلا کے جو خالی مکاں میں چھوڑ گئے

ہوا چلے تو ہوا کی ادا سے ڈرتے ہیں

جو اہلِ عجز ہیں وہ معجزے کے قائل ہیں

جو پُر غرور ہیں معجز نما سے ڈرتے ہیں


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment