کوشش ہزار کی مگر اتنا کیا نہیں گیا
ایسا عجیب درد تھا اِک پل سہا نہیں گیا
اس نے کہا کہ یُوں بنو پھر ہم فقط تمہارے ہیں
افسوس ہم سے عمر بھر ویسا بنا نہیں گیا
بوڑھے درخت، پنچھیوں کے غول اور اک ندی
جنگل کو رو رہے تھے سب، لیکن سنا نہیں گیا
کیسے کہیں کہ ہم نے بھی تھوڑی بہت کی شاعری
ہم سے تو کچھ بھی آج تک اچھا لکھا نہیں گیا
مدت کے بعد اک خوشی ہم کو پکارنے لگی
ہم چاہتے تھے دوڑنا، لیکن چلا نہیں گیا
شوزب کی بات مت کرو، شوزب تو نامراد ہے
اس کو پسند کا کبھی کچھ بھی دیا نہیں گیا
شوزب حکیم
No comments:
Post a Comment