کہانیاں نہ ختم ہوں گی اختتامیوں کے ساتھ
مجھے قبول کر مِری تمام خامیوں کے ساتھ
جہاں جہاں گئی ہوں میں، تمہارا ہاتھ تھام کر
ہوا اُدھر اُدھر گئی، سُبک خرامیوں کے ساتھ
اسی لیے ہوئے ہو تم قریب سے قریب تر
ہزار خوش مزاجیوں، خوش کلامیوں کے ساتھ
کسی مقامِ جبر پر شہید ہو گئی ہوں میں
مجھے بھی دفن کیجیے گا سو سلامیوں کے ساتھ
یہ کیا ہُوا کہ اس کے باوجود بازی ہار دی
کھڑی تھی میں تو سر اُٹھائے اپنے حامیوں کے ساتھ
مِری زمیں، تِرے تئیں یہ فیصلہ درست ہے
ہُوا جو حال وہ ہُوا بد انتظامیوں کے ساتھ
عبور کرنا سہل کب ہے پلِ صراط عشق کا
کنارِ زیست ہم کھڑے ہیں ناتمامیوں کے ساتھ
رخشندہ نوید
No comments:
Post a Comment