صفحات

Sunday, 2 May 2021

ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

 ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

نقش روشن ہے مگر نقش ہے دُھندلائے گا

گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ

میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بُجھ جائے گا

اب مِرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہو گا طلوع

اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا

میری قسمت تو یہی ہے کہ بھٹکنا ہے مجھے

راستے تو مِرے ہمراہ کدھر جائے گا

اپنے ذہنوں میں رچا لیجیے اس دور کا رنگ

کوئی تصویر بنے گی تو یہ کام آئے گا

اتنے دن ہو گئے بچھڑے ہوئے اس سے اظہر

مل بھی جائے گا، تو پہچان نہیں پائے گا


اظہر عنایتی

No comments:

Post a Comment