صفحات

Sunday, 2 May 2021

صبر کا ذکر چلا اور گھڑی ٹوٹ گئی

 صبر کا ذکر چلا اور گھڑی ٹُوٹ گئی

کوئی امید کسی دل میں پڑی ٹوٹ گئی

کار سگنل پہ کھڑی ہو تو کوئی بات چلے

کون مُٹیار کے پھولوں کی لڑی ٹوٹ گئی

میں وہ بیٹا ہوں جسے باپ کی ہمت نہ ملی

اور جو چیز ملی، یعنی چھڑی ٹوٹ گئی

سانس اک عام سے وعدے کے سبب ٹوٹ گیا

نیند اک سانس کی دوری پہ کھڑی ٹوٹ گئی

فائدہ کچھ تو ہُوا اس کے پلٹ جانے کا

کھُلے دروازے کی بے کار کَڑی ٹوٹ گئی


علی زیرک

No comments:

Post a Comment