کانٹا چُبھا تو پاؤں نے غم کا مزا لیا
ہم نے بھی چُپ کا زہر پیا سر جُھکا لیا
میں کوہ قافِ عشق سے لوٹا تو ایک دن
متروک خواہشوں نے مِرا دل چبا لیا
عجلت پسند شعبدہ گر تھے اسی لیے
خرگوش نہ بنا تو کبوتر بنا لیا
کتنا عجیب شخص تھا جس نے ہنسی خوشی
تفریحِ طبع کے لیے خود کو جلا لیا
بُجھنے لگے چراغ تو روشن ہوئی وہ آنکھ
جس پر تمام شہر نے قبضہ جما لیا
ہم سے نظر ملانے کی زحمت نہ کی پسند
محفل سجی تو یار نے چشمہ لگا لیا
اک خود نما فقیر نے جدت کے نام پر
کنجوسیت کو چھوڑ کے کاسہ نیا لیا
بچوں نے غُل مچایا تھا پھل توڑتے ہوئے
پیڑوں نے اپنے ہاتھ میں پتھر اُٹھا لیا
افتخار فلک
No comments:
Post a Comment