صفحات

Thursday, 20 May 2021

ناگن ہے زلف یار نہ زنہار دیکھنا

 ناگن ہے زلف یار نہ زنہار دیکھنا

اڑ اڑ کے کاٹتی ہے خبردار دیکھنا

کہتے ہیں لوگ مجھ سے یہ کھا کھا کے اب قسم

خونخوار ہے یہ شوخ ستم گار دیکھنا

شیریں دہن نہ بوجھیو ہیں شہد کی چھری

ہنس ہنس کے جان لیں ہیں یہ اطوار دیکھنا

کہتا ہوں در جواب انہوں کے میں روبرو

چاہو سو ہو پر مجھے اک بار دیکھنا

قابو میں آتا تو نہیں ہے مرے رقیب

کہیں داد بن گیا تو میرے یار دیکھنا

شانہ سمجھ کے کیجیو زلفوں کو اپنی یار

الجھا ہے اس میں دل یہ گرفتار دیکھنا

دل خوش ہوا کہیں تو پھر اپنا یہ ہے شعار

جا کر کے باغ میں گل و گلزار دیکھنا

اپنی نظر تو نؔین خدا پر ہے ہو سو ہو

جو آن باز کھائے سو لاچار دیکھنا


نین سکھ

خالد محمود

No comments:

Post a Comment