صفحات

Thursday, 20 May 2021

بے ارادہ میں جدھر جا نکلا

 بے ارادہ میں جدھر جا نکلا

راستہ اس کے ہی گھر کا نکلا

جس سے شکوہ کیا تنہائی کا

وہ بھی میری طرح تنہا نکلا

اک ذرا تار تنفس کیا ٹوٹا

جسم کا بوجھ بھی ہلکا نکلا

دل کی اب اور وضاحت کیا ہو

ایک کاغذ تھا کہ کورا نکلا

جامۂ حرص پہن کر دیکھا

یہ میرے جسم پہ چھوٹا نکلا

بِن بُلائے وہ میرے گھر آیا

چلو اک خواب تو سچا نکلا

ہر طرف پیاس بچھی تھی اکبر

کس خرابے میں یہ دریا نکلا


اکبر حیدرآبادی

No comments:

Post a Comment