دوراہا
یہ میں نے کہہ تو دیا تجھ سے عشق ہے لیکن
مرے بیان میں اک لزرشِ خفی بھی ہے
تو میرے دعوائے الفت کی آن پر مت جا
کہ اس میں ایک ندامت دبی دبی بھی ہے
وفا کی طلب ہے ترا عشق اور مرے دل میں
تری لگن کے سوا اور بے کلی بھی ہے
تجھی سے دل کا تلاطم ہے اور نگہ کا قرار
اسی قرار و تلاطم سے زندگی بھی ہے
مگر ہیں اور بھی طوفان اس زمانے میں
کہ جن میں عشق کی ناؤ شکستنی بھی ہے
مری نگاہ کے ایسے بھی ہوں گے چند انداز
کہ تو کہے کہ یہ محرم ہے، اجنبی بھی ہے
شب وصال کی اس مخملیں اندھیرے میں
مری تلاش میں فردا کی روشنی بھی ہے
مجھے تو آ کے ملی وقت کے دوراہے پر
کہ صبح زیست بھی ہے موت کی گھڑی بھی ہے
پطرس بخاری
No comments:
Post a Comment