صفحات

Sunday, 2 May 2021

ہجر کے جام سے سیراب رہا کرتے تھے

 ہجر کے جام سے سیراب رہا کرتے تھے

موسم غم میں نمو یاب رہا کرتے تھے

دید کی شرط نہ تھی عشق کے افسانے میں

ہم تجھے سوچ کے شاداب رہا کرتے تھے

تیری آنکھوں میں دمکتے تھے ستاروں کی طرح

خواب تھے اور پسِ خواب رہا کرتے تھے

مجھ سے کہتی ہے یہ سینے میں دھڑکتی ہوئی برف

یاں کبھی ابرُو گل و آب رہا کرتے تھے

دشت ہیں اب مِری آنکھیں تو کرم ہے تیرا

ورنہ پہلے یہاں سیلاب رہا کرتے تھے

پاس ناموس محبت میں جیے تھے کچھ لوگ

شہر میں ہم سے خوش آداب رہا کرتے تھے

جب میسر تھا ہمیں وہ تو شبوں میں اپنی

کئی سورج کئی مہتاب رہا کرتے تھے

تتلیاں تھیں تِری آنکھیں کہ جنہیں پھول سے لب

بڑھ کے چھُو لینے کو بے تاب رہا کرتے تھے


صائمہ علی زیدی

No comments:

Post a Comment