حوصلہ چار قدم چل کے ہی تھک جاتا ہے
اتنا خالی ہوں کہ اب ذہن بھٹک جاتا ہے
گھر سے نکلے ہوئے لوگوں کی خدا خیر کرے
موڑ مڑنے پہ تو رستہ بھی لڑھک جاتا ہے
سانپ سیڑھی میں وہ اک سانپ ہے گندے والا
جو مِرے اچھے مقدر کو گٹک جاتا ہے
ابتدا سے مجھے معلوم تھا، کانٹے کا دُکھ
شاخ بنتی نہیں، اور پھُول مہک جاتا ہے
چوری ہوتی ہے تو پھر گھر کے بزرگوں کی طرح
چابیاں بیچنے والے پہ بھی شک جاتا ہے
علی زیرک
No comments:
Post a Comment