صفحات

Sunday, 2 May 2021

حوصلہ چار قدم چل کے ہی تھک جاتا ہے

 حوصلہ چار قدم چل کے ہی تھک جاتا ہے

اتنا خالی ہوں کہ اب ذہن بھٹک جاتا ہے

گھر سے نکلے ہوئے لوگوں کی خدا خیر کرے

موڑ مڑنے پہ تو رستہ بھی لڑھک جاتا ہے

سانپ سیڑھی میں وہ اک سانپ ہے گندے والا

جو مِرے اچھے مقدر کو گٹک جاتا ہے

ابتدا سے مجھے معلوم تھا، کانٹے کا دُکھ

شاخ بنتی نہیں، اور پھُول مہک جاتا ہے

چوری ہوتی ہے تو پھر گھر کے بزرگوں کی طرح

چابیاں بیچنے والے پہ بھی شک جاتا ہے


علی زیرک

No comments:

Post a Comment