صفحات

Wednesday, 5 May 2021

ایک وہ اتنا خوبرو توبہ

 ایک وہ اتنا خوبرو توبہ

اس پہ چُھونے کی آرزو توبہ

ہاتھ کانپیں گے روح مچلے گی

جب وہ آئے گا رو برو، توبہ

چاند تاروں سے رات سجتی ہوئی 

تیری آواز اور تُو، توبہ 

کوئی گلیوں میں نام لیتا ہے

ہم ہوئے یعنی کو بکو، توبہ

لب نہیں اُس کی آنکھ بولتی ہے

ایسا اندازِ گفتگو، توبہ

میں توچپ چاپ ہوں مگر شوزب

دل سے اٹھتی صدائے ہُو، توبہ


شوزب حکیم

No comments:

Post a Comment