صفحات

Wednesday, 5 May 2021

یہ لوگ مار دیں گے تجھے آگہی نہ بن

 یہ لوگ مار دیں گے تجھے آگہی نہ بن

چبھنے لگے جو آنکھ میں وہ روشنی نہ بن

تیرے علاوہ اور بھی مجھ کو عزیز ہیں

تُو تھام لے یہ ہاتھ مگر ہتھکڑی نہ بن

دل میں دھڑکنے والے مِری آنکھ سے نکل

تُو عیب کوئی میرے لیے ظاہری نہ بن

شاید نہ اتنا دام تجھے بعد میں ملے

جو مل رہا ہے، لے اسے تُو لالچی نہ بن

میں چاہتا نہیں کہ محبت کی موت ہو

بندھن بھلے تُو میرے لیے کاغذی نہ بن


خالد محبوب

No comments:

Post a Comment