یہ لوگ مار دیں گے تجھے آگہی نہ بن
چبھنے لگے جو آنکھ میں وہ روشنی نہ بن
تیرے علاوہ اور بھی مجھ کو عزیز ہیں
تُو تھام لے یہ ہاتھ مگر ہتھکڑی نہ بن
دل میں دھڑکنے والے مِری آنکھ سے نکل
تُو عیب کوئی میرے لیے ظاہری نہ بن
شاید نہ اتنا دام تجھے بعد میں ملے
جو مل رہا ہے، لے اسے تُو لالچی نہ بن
میں چاہتا نہیں کہ محبت کی موت ہو
بندھن بھلے تُو میرے لیے کاغذی نہ بن
خالد محبوب
No comments:
Post a Comment