آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے
مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے
خوبصورت اگر دِکھائی دیں
ہم پہ پتھر اُٹھا لیا کیجے
حُسن حیرت کا پیش خیمہ ہے
اس عقیدے پہ سر دُھنا کیجے
ہم تکلف کو بھُول جاتے ہیں
آپ بھی دل ذرا بڑا کیجے
یہ ہے دنیا یہاں شکاری ہیں
اپنے اندر ہی اب اُڑا کیجے
سب درختوں پہ بُور آنے لگے
یار! ایسی کوئی دُعا کیجے
بات کرنا اگر نہیں آتا
خامشی کو ہَرا بھرا کیجے
افتخار فلک
No comments:
Post a Comment