صفحات

Sunday, 2 May 2021

رقم اتنی اکٹھی ہو گئی تھی

 رقم اتنی اکٹھی ہو گئی تھی

مگر وہ چیز مہنگی ہو گئی تھی

ہم اتنی گرمجوشی سے ملے تھے

ہماری چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی

تمہارے بعد جتنا روئے تھے ہم

طبیعت اتنی اچھی ہو گئی تھی

سمجھ کر ہم دوائی پی گئے تھے

تمہاری بات کڑوی ہو گئی تھی

پلٹ آنا ہی بنتا تھا وہاں سے

ہمارے ساتھ جتنی ہو گئی تھی

ہوئی تھی دیر سے ہم کو محبت

ہماری جلد شادی ہو گئی تھی

سبھی محبوب اٹھ کر جا رہے تھے

کہانی اتنی لمبی ہو گئی تھی


خالد محبوب

No comments:

Post a Comment