صفحات

Thursday, 20 May 2021

سناٹے کا درد نکھارا کرتا ہوں

 سناٹے کا درد نکھارا کرتا ہوں

خود کو خاموشی سے پکارا کرتا ہوں

تنہائی جب آئینہ دکھلاتی ہے

اپنی ذات کا پہروں نظارہ کرتا ہوں

آوازوں کا بوجھ اٹھائے صدیوں سے

بنجاروں کی طرح گزارہ کرتا ہوں

خوابوں کے سنسان جزیروں میں جا کر

ویرانی سے ذکر تمہارا کرتا ہوں

جب سے نیندیں لوٹ گئیں تاروں کی طرف

جاگتے میں زخموں کو سنوارا کرتا ہوں


ابرار اعظمی

No comments:

Post a Comment