صفحات

Sunday, 2 May 2021

لوٹ آئی میں اس لیے گھر میں

 لوٹ آئی میں اس لیے گھر میں

دل یہ لگتا نہیں تھا دفتر میں

میں نے دیکھا تھا پہلی بار اسے

شام کے اک حسین منظر میں

دل کو چھوڑا یہ سوچ کر خالی

کیا اُگے گا زمینِ بنجر میں

ایسا رازق ہے رب جو کیڑے کو

رزق دیتا ہے ایک پتھر میں

اس کا پھر کیا کرے علاج کوئی

خوش نہیں ہو جو اپنے ہی گھر میں

یہ محبت بھی کیا عجب شے ہے

سب ہیں برباد اس کے چکر میں

اس کو پانے کی خواہشیں ہیں شزا

وہ جو ہے ہی نہیں مقدر میں


شزا جلالپوری

شیزا جلالپوری

No comments:

Post a Comment