لوٹ آئی میں اس لیے گھر میں
دل یہ لگتا نہیں تھا دفتر میں
میں نے دیکھا تھا پہلی بار اسے
شام کے اک حسین منظر میں
دل کو چھوڑا یہ سوچ کر خالی
کیا اُگے گا زمینِ بنجر میں
ایسا رازق ہے رب جو کیڑے کو
رزق دیتا ہے ایک پتھر میں
اس کا پھر کیا کرے علاج کوئی
خوش نہیں ہو جو اپنے ہی گھر میں
یہ محبت بھی کیا عجب شے ہے
سب ہیں برباد اس کے چکر میں
اس کو پانے کی خواہشیں ہیں شزا
وہ جو ہے ہی نہیں مقدر میں
شزا جلالپوری
شیزا جلالپوری
No comments:
Post a Comment