صفحات

Thursday, 20 May 2021

میں فتح ذات منظر تک نہ پہنچا

 میں فتح ذات منظر تک نہ پہنچا

مرا تیشہ مرے سر تک نہ پہنچا

اسے معمار لکھا بستیوں نے

کہ جو پہلے ہی پتھر تک نہ پہنچا

تجارت دل کی دھڑکن گن رہی ہے

تعلق لطف منظر تک نہ پہنچا

شگفتہ گال تیکھے خط کا موسم

دوبارہ نخل پیکر تک نہ پہنچا

بہت چھوٹا سفر تھا زندگی کا

میں اپنے گھر کے اندر تک نہ پہنچا

یہ کیسا پیاس کا موسم ہے احمد

سمندر دیدۂ تر تک نہ پہنچا


احمد شناس

No comments:

Post a Comment