صفحات

Thursday, 20 May 2021

آج کل کے شباب دیکھے ہیں

 آج کل کے شباب دیکھے ہیں

سارے خانہ خراب دیکھے ہیں

پھول جیسے حسین چہرے بھی

ہائے سہتے عذاب دیکھے ہیں

عشق کی راہ میں وہ لٹتے ہوئے

ہم نے لاکھوں جناب دیکھے ہیں

ہے یہ الفت بھی کیا بلا صاحب

اس میں جھکتے نواب دیکھے ہیں

ایک اک پل کو یاد رکھتے تھے

وہ تمہارے حساب دیکھے ہیں

تم ہٹا دو یہ اپنے چہرے سے

ہم نے کافی نقاب دیکھے ہیں

پہلے محسن تھے پھر بنے ظالم

لوگ ایسے عتاب دیکھے ہیں

جس پہ مہتاب تم رہے مرتے

اب وہ ہوتے سراب دیکھے ہیں


بشیر مہتاب

No comments:

Post a Comment