صفحات

Thursday, 20 May 2021

گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے

 گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے

کٹی ہے عمر گدائی کا اتہام لیے

کہیں ہوئے بھی جو روشن محبتوں کے چراغ

ہوائیں دوڑ پڑیں وحشتوں کے دام لیے

طلسم راز نہ کھل جائے تنگ بینوں پر

تمہارے نام سے پہلے ہزار نام لیے

بھٹک رہا ہوں میں تنہائیوں کے جنگل میں

حیات رقص میں ہے حسن صبح و شام لیے

کبھی ملی تھی جو اک درد نارسا کی خلش

میں جی رہا ہوں وہی زخم ناتمام لیے

کسی کی یاد میں اکثر یہی ہوا محسوس

فلک زمین پہ اترا مہِ تمام لیے

ملی ہے گردشِ ایام ہر زمانے میں

سحر امید کی اور جاں کنی کی شام لیے


احتشام حسین

No comments:

Post a Comment