صفحات

Thursday, 20 May 2021

تنہا اداس شب کے سوا کوئی بھی نہ تھا

 تنہا اداس شب کے سوا کوئی بھی نہ تھا

سناٹا آیا جھانک کے گھر میں چلا گیا

بے کیفیوں کی جھیل میں بے حس سے کچھ پرند

بیٹھے تھے تھوڑی دیر مگر اس سے کیا ہوا

چہروں کے میلے جسموں کے جنگل تھے ہر جگہ

ان میں کہیں بھی کوئی مگر آدمی نہ تھا

وہ اجنبی یہی تو وہ کہتا تھا چیخ کر

میرا ادھورا خواب کہیں مجھ سے کھو گیا

چھن چھن کے آ رہی ہے کدھر سے یہ روشنی

میری فصیل درد کی رفعت کو کیا ہوا


ابرار اعظمی

No comments:

Post a Comment