دن پہ لکھا تو کبھی رات پہ لکھا جائے
کیا ضروری ہے کہ ہر بات پہ لکھا جائے
دشت کی جملہ روایات کو یکجا کر کے
ہجر زادوں کی مہمات پہ لکھا جائے
کوئی پوچھے بھی تو میں بات بدل لیتی ہوں
مجھ سے کب تلخئ حالات پہ لکھا جائے
یہ محبت کی کرامت ہے کہ اب نام تِرا
کچھ بھی لکھوں تو مِرے ہاتھ سے لکھا جائے
اک قصیدہ ہو رقم ان کو بلانے کے لیے
دوسرا وقتِ ملاقات پہ لکھا جائے
میں نے لکھے نہیں شاہوں کے حکایت نامے
سخت مشکل تھا خرافات پہ لکھا جائے
یہ محبت کی وصیت ہے سو اے دستِ ہوا
اس کو ہر پھول پہ ہر پات پہ لکھا جائے
جو مصائب کے لکهاری ہوں فرح اب ان سے
کیسے ممکن ہے فتوحات پہ لکھا جائے
فرح شاہ
No comments:
Post a Comment