اس زندگی سے پیار کے لمحات کاٹ کر
تم نے تو رکھ دئیے ہیں مِرے ہات کاٹ کر
عزت کے ساتھ آنکھ سے ہوتے نہیں بری
کچھ قیدی بھاگتے ہیں حوالات کاٹ کر
اک آدھ بار میں نے اسے ٹوک بھی دیا
شرمندہ وہ ہوا نہ مِری بات کاٹ کر
اس شہر میں بہت سے مضافات ضم ہوئے
کالونیاں بنا لی ہیں باغات کاٹ کر
مجھ کو سمجھ کہانی کی آتی ہے دیر سے
میں فلم دیکھتا نہیں نغمات کاٹ کر
محبوب شور کم نہیں کمرے کا ہو سکا
مہمان تو چلے گئے ہیں رات کاٹ کر
خالد محبوب
No comments:
Post a Comment