صفحات

Tuesday, 22 June 2021

جس نے جنم کی گھٹی چکھی اس کو زینے طے کرنا ہیں

 زینے تو بس زینے ہیں


جس نے جنم کی گھٹی چکھی

اس کو زینے طے کرنا ہیں

اندر باہر

نیچے اوپر

آگے پیچھے

زینے ہر ہر اور

جتنا جانو

چڑھ آئے

اتنا سمجھو

اتر چکے ہو

اس نے کہا

زینے عجب فریب ہیں بابا

آج تلک یہ کھل نہیں پائے

زینے یہ بل کھاتے زینے

جنم جنم کے پھیر

ازل گھڑی سے

انت سمے تک

زینے اپرم پار

اس نے کہا

زینہ زینہ چڑھتے جاؤ

چڑھتے جاؤ

بام پہ جب پہنچو گے

تو پاتال کی اک شبرنگی ناگن

پھن پھیلائے پاؤ گے

جس نے تم کو ڈسنا ہے

زینہ زینہ اترتے جاؤ

اور اترتے جاؤ

جب آنگن میں قدم رکھوگے

بام پہ خود کو پاؤ گے

اس نے کہا

نفی اثبات کے

اس ملغوبے میں

کیسا چڑھنا

کیسا اترنا

گولے کی اس کھینچ میں بابا

بام کہاں

پاتال کہاں ہے

کس کو خبر ہے

زینے تو بس زینے ہیں

ہم کو انہیں طے کرنا ہے


انوار فطرت

No comments:

Post a Comment