صفحات

Tuesday, 22 June 2021

یہ جو ہنسی کی بات پہ نمدیدہ وقت ہے

 یہ جو ہنسی کی بات پہ نم دیدہ وقت ہے

شاید مِرے مذاق پہ رنجیدہ وقت ہے

ہر چیز کو دھکیل رہا ہے فنا کی سمت

کس درجہ اپنے کام میں سنجیدہ وقت ہے

دیکھا ہے گھوم پھر کے کوئی آدمی نہیں

سب سے بڑا جہاں میں، جہاں دیدہ وقت ہے

اک پل کو بھی اکیلا مجھے چھوڑتا نہیں

آسیب کی طرح مِرا گرویدہ وقت ہے

ہر شام زندگی سے میں ہوتا ہوں ہمکلام

غائر یہ وقت، میرا پسندیدہ وقت ہے 


کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment