خدا کریم ہے اتنا کرم ہی فرمائے
میں اس کو بھولنا چاہوں وہ مجھ کو یاد آئے
فضا میں نور ہواؤں میں اس کی خوشبو ہے
ٹھہر اے وقت! کہ جان بہار آ جائے
وفا خلوص و محبت کی یہ امانت ہے
غم حیات کی سرخی جبیں پہ لہرائے
تمہاری چاہ طرب خیز وادیوں کا سفر
ہمارے ساتھ ہیں محرومیوں کے سرمائے
گرا کے برق جلایا ہے آشیاں دل کا
تِرے لبوں پہ تبسم کچھ ایسے لہرائے
کہاں مثال ہے روشن جمال کی نشتر
بدن کو چھو کے جسے چاندنی بھی شرمائے
ابوالخیر نشتر
No comments:
Post a Comment