محبت روایت نہیں ہے
محبت وہ پامال رستہ نہیں ہے
کے آتے ہوئے موڑ کی ہر خبر
کِرم خوردہ کتابوں کے بوسیدہ صفحوں کی دھندلی لکیروں میں
چھپ چھپ کے عریاں ہوئی ہو
محبت کی تصویر کس نے بنائی
محبت سفر کا سفرنامہ کس نے لکھا ہے
اگر کوئی اک گمشدہ سی صدی میں
ادھر سے گزر بھی گیا تھا
تو اس کو خبر کیا
کوئی بِیتا موسم انہی پتھروں کی کسی درز میں
کوئی کونپل کھلا کر گیا ہو
محبت کا ہر تجربہ دوسرے سے علیحدہ نا ہوتا
تو یہ جھُریوں سی دراڑوں سے لبریز پتھر سے چہرے
ہمیں اپنے پانمال رستوں پہ انگلی پکٹر کر چلاتے
یہ خود ہم سے کہتے کے؛ جاؤ محبت کرو
مگر جان جاناں
ہمارا تمہارا یہی مسئلہ ہے
بغاوت روایت نہیں ہے
سلمان حیدر
No comments:
Post a Comment