تم نگارِ صبح تمنا و کارِ شامِ نشاط
تمہاری یاد کا بادہ، تمہارے خواب کا جام
تمہارے رنگوں سے روشن ہے زندگی میری
فزوں ہے روشنی کوئی مِرے خیالوں میں
تمہارے قُرب کے لمحوں سے جو کشید ہوئی
اور ایسی روشنی کہ نور کو بھی لاج آئے
پیامِ مرگِ خزاں کے لیے تِرا آنا
ہے روزگار بہاروں کا تجھ سے وابستہ
دھنک کے آٹھویں رنگ کا نیا تماشہ تو
زمین، پانی، ہوا کا وجود تجھ سے ہے
زمیں پہ زندگی کا ہست و بود تجھ سے ہے
فضائے دہر یوں خوش رُو تمہارے دم سے ہے
ہماری زیست میں خوشبو تمہارے دم سے ہے
عبید ثاقب
No comments:
Post a Comment