اک نئی چیز پرانی کی طرف دیکھتی ہے
ہائے پیری کہ جوانی کی طرف دیکھتی ہے
یاد آتی ہے مجھے پیاس علی اصغر کی
جب بھی بچی مِری پانی کی طرف دیکھتی ہے
شیخ جی حق بھی کبھی کہیے کہ یہ خلقِ خدا
آپ کی شعلہ بیانی کی طرف دیکھتی ہے
راجہ لایا ہے جُرم کے لیے اک اور کنیز
سہمی سہمی سی ہے، رانی کی طرف دیکھتی ہے
ڈُوب جانے کے تصور سے ہوئی ہے لرزاں
نوکِ مژگاں کھڑے پانی کی طرف دیکھتی ہے
آخری سین میں مرتی ہوئی بے بس لڑکی
ایک حسرت سے کہانی کی طرف دیکھتی ہے
حبس آلود ہُوا جاتا ہے منظر سارا
بُوالہوس آنکھ جوانی کی طرف دیکھتی ہے
لبِ دریا کھڑے اک پیڑ کی نازک ٹہنی
جھُولتی ہے تو روانی کی طرف دیکھتی ہے
دُودھیا ہاتھوں میں تھامے ہوئے چھاچھ اک لڑکی
ٹکٹکی باندھے مدھانی کی طرف دیکھتی ہے
ایسی وحشت ہے کہ اب عالمِ رنگ و بُو میں
زندگی نقل مکانی کی طرف دیکھتی ہے
عثمان ناظر
No comments:
Post a Comment