صفحات

Wednesday, 2 June 2021

وہ جو بے خوفی کا امکان کچل جاتی ہے

 وہ جو بے خوفی کا امکان کچل جاتی ہے

ہے خبر اب وہ بلا آج کہ کل جاتی ہے

نئے آزار کی آمد سے سرِ خانۂ غم

کچھ نہ کچھ صورتِ حالات بدل جاتی ہے

وہ کسی موجۂ شاداب کا سایہ ہی نہ ہو

زندگی جس کی طرف سانس کے بل جاتی ہے

خامشی ہی کا یہ جادو ہے یہی چُپ کا طلسم

ان کہی بات بھی آوازمیں ڈھل جاتی ہے

شعلۂ یاد سے اس بزم کے اٹھتی ہے وہ آنچ

تہہ بہ تہہ برف سی تنہائی پگھل جاتی ہے

سمت کب بابِ نوازش کی معین ہو گی

جستجو روز ہی بے سمت نکل جاتی ہے

جس جگہ اُٹھتے ہیں دو دستِ دعا بس وہیں پر

لڑکھڑاتی ہوئی اُمید سنبھل جاتی ہے


عابدہ تقی

No comments:

Post a Comment